حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، رانچی-جھارکھنڈ/ امام جمعہ والجماعت مسجد جعفریہ رانچی حجۃ الاسلام مولانا سید تہذیب الحسن رضوی نے کہا ہے کہ اسلام انسانوں کو ایک دوسرے کے عیوب کی پردہ پوشی، باہمی احترام اور ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کا درس دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی کی کمزوریوں کو اچھالنے کے بجائے اس کی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے، کیونکہ معاشرے کی ترقی باہمی تعاون، حسنِ اخلاق اور مثبت طرزِ عمل سے ممکن ہے۔
انہوں نے جھارکھنڈ کی معروف مسجد جعفریہ، انصار نگر رانچی میں نماز جمعہ سے قبل خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ ستار العیوب ہے اور انسان کے تمام اعمال سے واقف ہونے کے باوجود اس کے عیوب پر پردہ ڈالتا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مسلمانوں کو بھی ایک دوسرے کی خامیوں کی تشہیر کرنے کے بجائے اصلاح اور خیرخواہی کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

مولانا سید تہذیب الحسن رضوی نے کہا کہ آج معاشرے میں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور خود کو سب سے زیادہ قابل و ذہین ثابت کرنے کا رجحان بڑھ رہا ہے، جبکہ مولائے کائنات حضرت علیؑ کی تعلیمات کے مطابق خود کو دوسروں سے برتر سمجھنا حماقت ہے۔ انہوں نے امام جعفر صادقؑ کی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کسی مومن کی ترقی اور کامیابی دیکھ کر حسد کرنے کے بجائے اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے ہمارے معاشرے کے ایک فرد کو سربلندی عطا کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انسان کی حقیقی عظمت کا معیار محض علم اور دولت نہیں، بلکہ اس کا اخلاق و کردار ہے۔ معاشرے اور قوم کے لئے کام کرنے والے افراد کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے، نہ کہ ان کی ٹانگ کھینچنے کی کوشش کی جائے۔
امام جمعہ رانچی نے منبر رسولؐ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ دورِ جہالت میں ذرائع ابلاغ کی عدم موجودگی کے باوجود منبر کے ذریعے لوگوں کی فکری اور اخلاقی اصلاح ہوتی رہی ہے اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ منبر کا بنیادی تقاضا سچائی، تقویٰ اور نیک عمل کی دعوت دینا ہے، تاہم اس دعوت کا مؤثر ہونا اسی وقت ممکن ہے جب دعوت دینے والا خود بھی ان تعلیمات پر عمل پیرا ہو۔

عالمی حالات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل نے اپنی طاقت اور برتری کے زعم میں ایران کے نظام کو تبدیل کرنے کی کوشش کی، لیکن ایران نے ثابت کیا کہ حقیقی کامیابی محض جدید ہتھیاروں سے نہیں بلکہ مضبوط کردار، ایمان، عزم اور عملی استقامت سے حاصل ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی مزاحمت نے عالمی سطح پر کئی حقائق آشکار کئے اور دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اہل بیتؑ کی تعلیمات پر عمل پیرا قوموں کو طاقت کے زور پر مرعوب نہیں کیا جا سکتا۔
مولانا سید تہذیب الحسن رضوی نے آخر میں کہا کہ اگر مسلمان حقیقی کامیابی اور سربلندی چاہتے ہیں تو انہیں اہل بیتؑ کی تعلیمات کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا اور ایران کے تجربے سے بھی سبق حاصل کرنا چاہیے۔










آپ کا تبصرہ